Friday, August 25, 2017

کیا آتشِ اُلفت ہے بیاں ہو نہیں سکتا

غزل

کیا آتشِ اُلفت ہے بیاں ہو نہیں سکتا
ہو جائیں گے ہم راکھ دھواں ہو نہیں سکتا

مٹھّی میں بھلا قید ہوئی ہے کبھی خوش بو
یہ رازِ محبّت ہے نہاں ہو نہیں سکتا

ٹوٹا ہے فلک یا کہیں ٹوٹا ہے کوئی دل
یوں ہی تو کہیں شورِ فغاں ہو نہیں سکتا

ملتے نہیں خوش بو بھرے خوش رنگ سے الفاظ
لفظوں میں تِرا روپ بیاں ہو نہیں سکتا

گھر کر گئے دل میں وہ کچھ اِس طرح سے راغبؔ
خالی کبھی اب دل کا مکاں ہو نہیں سکتا

شاعر: افتخار راغبؔ
کتاب: خیال چہرہ

گلوں کی سمت بھنوروں سے زیادہ کون دیکھے گا


گلوں کی سمت بھنوروں سے زیادہ کون دیکھے گا
رخِ گلنار پر الفت کاغازہ کون دیکھے گا

نظر کے سامنے جو ہے اسے سب دیکھ لیتے ہیں
کسی کے دل کے حجرے کا تماشہ کون دیکھے گا

تمہارے بِن اداسی دن پہ اکثر چھائ رہتی ہے
شبِ فرقت فلک پر چاند تارا کون دیکھے گا

محبت کا تقاضہ بس محبت ہی محبت ہے
محبت میں زمانے کا تقاضہ کون دیکھے گا

اگر پیشِ نظر ، تیری نظر ، تیرا سراپا ہو
کسے کہتے ہیں قارونی خزانہ کون دیکھے گا

پڑھوں تم کو محبت گوشے گوشے میں نظر آےُ
لفافہ کھول کر خط سادہ سادہ کون دیکھے گا

جسے دیکھو وہی کہتا ہے تم " مقصود " ہو میرے
کسی سے کرلیا ہے میں نے وعدہ کون دیکھے گا

مقصود انور مقصود
دوحہ ، قطر