Sunday, July 16, 2017

زندگی کچھ سوز ہے کچھ ساز ہے

زندگی کچھ سوز ہے کچھ ساز ہے
دور تک بکھری ہوئی آواز ہے

خامشی اس کی  ہے  مثل- گفتگو
ہر نظر جذبات کی غماز ہے

کس طرح زندہ ہوں تجھ کو دیکھ کر
زندگی مجھ پر تبسم ساز ہے

جاں فزا نغمات کا خالق ہے یہ
دل اگر چہ اک شکستہ ساز ہے

اس طرح قائم ہے رقص- زندگی
ساز اس کا ہے، مری آواز ہے

کیا بتاؤں آج کے اس دور میں 
آدمی کتنا زمانہ ساز ہے

اس لیے رکھتا ہوں میں اس کو عزیز
حق پرستی روح کی آواز ہے

باختن ہے پتھروں کی سر زمیں
پھر بھی مجھ کو اس پہ کتنا ناز ہے

منزل- مقصود تک پہنچے گی عرش
رک نہ پائے گی مری آواز ہے

(عرش صہبائی)

جو أندھی أئ تو تنکا نھیں تھا

غزل

جو أندھی أئ تو تنکا نھیں تھا

ھوا گا رخ کبھی ایسا نھیں تھا

نہ جانے پھر بھی میں کیوں منتظر ھوں

ترا مجھ سے کوئ وعدہ نھیں تھا

توقع اور بھی. حد سے سوا تھی

ترا یھ ظلم کچھ زیادہ نھیں تھا

گھڑی بھر کے لیءے اس کی بھی سنتے

جو سہتا تھا بھت کھتا نھیں تھا

ہمارے درد کی یہ نوعیت تھی

بھت مشہور تھا رسوا نہیں تھا
درد